ممبئی،03/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج آئے 10 دن گزر چکے ہیں مگرحکومت بننے کو لے کر کچھ بھی واضح نہیں ہے۔اس دوران شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے بی جے پی پر دوبارہ حملہ بولا اور کہا ہے کہ یدی یورپا (کرناٹک کے وزیر اعلی) فارمیٹ کی سیاست مہاراشٹر میں نہیں چلے گی۔سنجے راوت نے کہا کہ حکومت بنانے کے لئے غنڈوں کا استعمال ہو رہا ہے، ممبران اسمبلی کو غنڈوں کے فون آ رہے ہیں۔ حلف لینے کے لئے بی جے پی نے وانکھیڈے میدان اور مہالکشمی بک کیا ہے، شہر بھر کے گیسٹ ہاؤس بک کئے گئے ہیں مگرحلف اس بار شیوسینا کا لیڈر ہی لے گا۔انہوں نے کہاکہ 170 سے زائد ممبر اسمبلی حمایت کر رہے ہیں۔یہ اعداد و شمار 175 تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ سنجے راوت نے ٹویٹ پر شاعرانہ انداز میں کہاکہ ’اصولوں پر جہاں آنچ آئے، ٹکرانا ضروری ہے۔جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے۔حکومت بننے کے تعطل کے درمیان شیوسینا مسلسل بی جے پی کے خلاف بیان بازی کر رہی ہے اور یہ بیان بازی شیوسینا کی جانب سے مسلسل سنجے راوت کر رہے ہیں۔شیوسینا نے صاف طور پر کہا کہ امت شاہ سے ان کے تعلقات اچھے ہیں لیکن دیویندر فڑنویس کی اب خیر نہیں۔ سنجے راوت نے یہاں تک کہا کہ امت شاہ وزیر داخلہ ہیں ان کے سامنے بڑی ذمہ داریاں ہیں اس معاملے میں مہاراشٹر کی قیادت کو آگے بڑھ کر پہل کرنی چاہیے۔شیوسینا نے یہ بھی کہا آنجہانی گوپی ناتھ منڈے اور پرمود مہاجن جب تک تھے۔اس وقت تک بی جے پی-شیوسینا میں تعلقات بہت اچھے تھے اور ایک دوسرے کی بات مانی جاتی تھی، آج صورتحال بدل گئی ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 105 سیٹیں ملی ہیں۔جبکہ 288 رکنی ایوان میں شیوسینا نے 56 سیٹیں جیتی۔مہاراشٹر میں حکومت بنانے کے لیے 145 اراکین اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہے۔یہاں کانگریس نے 44 اور این سی پی نے 54 سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔مہاراشٹر میں حکومت تشکیل کو لے کر جاری تعطل کے درمیان وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے ریاست میں ان علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں جہاں بے موسم بارش کی وجہ سے فصل تباہ ہوئی ہیں۔وزیر اعلی کے دفتر (سی ایم او) نے بتایا کہ فڑنویس نے اتوار کو اکولا میں کسانوں سے ملاقات کی اور تباہ شدہ فصلوں کا معائنہ کیا۔